Ubqari®

عالمی مرکز امن و روحانیت
اعلان!!! نئی پیکنگ نیا نام فارمولہ،تاثیر اور شفاءیابی وہی پرانی۔ -- اگرآپ کو ماہنامہ عبقری اور شیخ الوظائف کے بتائے گئے کسی نقش یا تعویذ سے فائدہ ہوا ہو تو ہمیں اس ای میل contact@ubqari.org پرتفصیل سے ضرور لکھیں ۔آپ کے قلم اٹھانے سے لاکھو ں کروڑوں لوگوں کو نفع ملے گا اور آپ کیلئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہوگا. - مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں -- تسبیح خانہ لاہور میں ہر ماہ بعد نماز فجر اسم اعظم کا دم اور آٹھ روحانی پیکیج، حلقہ کشف المحجوب، خدمت والو ں کا مذاکرہ، مراقبہ اور شفائیہ دُعا ہوتی ہے۔ روح اور روحانیت میں کمال پانے والے ضرور شامل ہوں۔۔۔۔ -- تسبیح خانہ لاہور میں تبرکات کی زیارت ہر جمعرات ہوگی۔ مغرب سے پہلے مرد اور درس و دعا کے بعد خواتین۔۔۔۔ -- حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی درخواست:حضرت حکیم صاحب ان کی نسلوں عبقری اور تمام نظام کی مدد حفاظت کا تصور کر کےحم لاینصرون ہزاروں پڑھیں ،غفلت نہ کریں اور پیغام کو آگے پھیلائیں۔۔۔۔ -- پرچم عبقری صرف تسبیح خانہ تک محدودہے‘ ہر فرد کیلئے نہیں۔ماننے میں خیر اور نہ ماننے میں سخت نقصان اور حد سے زیادہ مشکلات،جس نے تجربہ کرنا ہو وہ بات نہ مانے۔۔۔۔ --

پریشان اور بد حال گھرانوں کے الجھے خطوط اور سلجھے جواب

ماہنامہ عبقری - اپریل 2021ء

سنسان راہ گزر
جس راستے سے میں کالج جاتی ہوں، وہ بہت سنسان ہے۔ پہلے مجھے یہاں سے گزرتے ہوئے ڈر لگتا تھا۔ پھر ایک دن ایک گاڑی میرے قریب سے گزری۔ میں اس کو دور تک دیکھتی رہی۔ دوسرے روز وہ گاڑی میرے قریب رک گئی۔ اس میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی بیٹھی تھی۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا، کہاں جانا ہے۔ میں نے بتادیا کہ بس تھوڑا اگلے موڑ تک۔۔اور میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئی۔ میں نے غور کیا لڑکی عجیب تھی مگر لڑکا اچھا لگا۔ دوسرے روز میرے دل نے کہا کہ لڑکا اکیلا آئے لیکن اس بار گاڑی میں لڑکی اکیلی تھی۔ میں نے ساتھ بیٹھنے سے انکار کردیا۔ گھر پر اس بات کا ذکر کیا تو امی نے مجھے چھوڑنے کی ذمہ داری خود سنبھال لی۔ اب گھر پر رکشہ آتا ہے۔ مجھے بہت غصہ آنے لگا کہ میں پہلے ہی ٹھیک تھی۔ ان کو کیسے سمجھائوں؟ ۔ (س۔ کراچی)
مشورہ:کتنی اچھی ہیں آپ کی والدہ۔ اس سے زیادہ محبت اور خیال کی کیا بات ہوسکتی ہے کہ وہ خود آپ کے ساتھ جانے لگیں۔ اب پیدل بھی نہیں چلنا پڑ رہا، کسی کی ضرورت بھی نہیں رہی۔ جب انسان خود اپنی سواری پر جاسکتا ہوتو دوسروں کا سہارا لینے کی تمنا نہیں کرنی چاہئے۔
نقصان کے بعد
میری عادت ہے سوچ سوچ کر خود کو تھکاتا نہیں بلکہ جو کام کرنا ہوا، کرڈالا۔ کتنی طرح کا کاروبار کیا‘ سکول بن گیا مگر مجھے نقصان ہوا۔ مجھ سے لوگ سیکھتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔ میں قرض دار ہوگیا۔ گھر میں کوئی میری بات نہیں سنتا البتہ نئے دوست بہت عقلمند سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ میں کاروبار میں ان کا ساتھ دوں۔ (محسن‘ ملتان)
مشورہ: کوئی بھی نیا کام کرنے سے پہلے اس کی تیاری کرنا، سوچ کر پلان بنانا اور پھر مناسب اقدام کرنا ضروری ہے جو لوگ بغیر سوچے سمجھے کاروبار کرتے ہیں وہ غیر ضروری مشقت، پریشانی اور ناکامی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بعض لوگ باتیں اچھی کرلیتے ہیں، مختلف کاموں کے بارے میں معلومات بھی ہوتی ہیں لیکن جب خود ذمہ داریاں انجام دینی ہوں تو لاپرواہی کرتے ہیں۔ آپ غور کریں ناکامی کے کیا اسباب ہیں۔
فکر سے فرار
میری عمر سولہ سال ہے۔ ہزار بار محنت کے باوجود اچھے نمبروں سے پاس نہیں ہوتی۔ وزن زیادہ ہے جس کی وجہ سے الگ پریشان ہوں، پڑھنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ (ر۔م، لاہور)
مشورہ:بعض طالب علموں کا وزن محض اس لئے بڑھ جاتا ہے کہ جب ان کو پڑھائی کی طرف سے فکر ہوتی ہے وہ کچھ کھا پی کر اس فکر سے فرار حاصل کرتے ہیں لہٰذا اس حوالے سے غور کرنے کی ضرورت ہے، کم عمری میں وزن زیادہ ہونے کی اور بھی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، ان میں ایک تھائیرائڈ گلینڈ کی خرابی بھی ہے۔ مسلسل محنت کے باوجود اچھے نمبر نہ آنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ آپ جو کچھ پڑھ رہی ہیں، وہ سمجھ میں نہیں آرہا۔ اس حوالے سے کسی سے مدد لے لیں۔
کیا یہ محبت کی علامت ہے؟
مجھے پھول بہت پسند ہیں۔ یہ محبت کی علامت ہوتے ہیں۔ جب بھی کسی پھول بیچنے والی لڑکی یا لڑکے کو دیکھتی ہوں دل چاہتا ہے سارے گجرے خرید لو لیکن میرے پاس اتنی رقم نہیں ہوتی، اس وقت مایوس ہو جاتی ہوں، کئی بار تو آنکھوں میں آنسو بھی آئے ہیں۔ (افشاں خالد۔ کراچی)
مشورہ:آپ نرم دل، حساس اور ہمدرد معلوم ہوتی ہیں۔ جب سارے گجرے نہ خرید سکیں تو صرف دو خرید لیں یا چار خرید لیں، اس طرح خوشی حاصل ہوگی اور کسی غریب کی مدد کا احساس بھی ہوگا۔ مزید خوشی کیلئے ان میں دو گجرے یا چاروں گھر میں امی ، بھابی یا پڑوس میں کسی خاتون کو تحفے میں دے دیں۔ آنسو کی جگہ مسکراہٹ لے لے گی۔

 

بہت نبھانے کی کوشش مگر شادی ایک سال میں ختم
ایک سال شادی رہی۔ میں نے بہت کوشش کی نبھانے کی۔ اپنی نند کے ساتھ جاب پر بھی جانے لگی۔ وہ سلائی کی ایک فیکٹری میں جاتی تھی۔ سسرال والوں کا کہنا تھا کہ میں بھی کام کروں۔ پھر بھی کوئی مجھ سے خوش نہ تھا۔ فیکٹری سے آکر نند تو سو جاتی مگر مجھے کھانا پکانا پڑتا۔ سب سے زیادہ دکھ اس کا تھا کہ شوہر بھی خوش نہ تھے۔ انہیں میری صورت شکل پسند نہ تھی۔ ایک روز رات کے گیارہ بجے کسی بات پر الجھ پڑے اور گھر سے نکلے کے لیے کہا۔ میں بھی بہت پریشان تھی۔ اس روز واقعی گھر سے نکل گئی۔ رات کے ایک بجے اپنے میکے پہنچی۔ امی مجھے دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ مجھے غلط فہمی تھی کہ گھر سے باہر جائوں گی تو شوہر ہاتھ پکڑ کر واپس لے آئیں گے۔ لیکن ایسا کچھ نہ ہوا، سارے راستے روتی رہی۔ اب لگتا ہے رورو کر پاگل ہو جائوں گی مگر یہ وقت جو ٹھہر گیا ہے، نہ بدلے گا۔ گھر والے میرا ساتھ دے رہے ہیں۔ (پوشیدہ)
مشورہ:وقت کبھی بھی ٹھہرتا نہیں بلکہ گزرتا جاتا ہے۔ گزرے ہوئے وقت اور لوگوں کے برے رویوں کا یاد کرکے رونا مزید وقت ضائع کرنا ہے۔ رونے والے کم ہمت ہوتے ہیں۔سسرال میں آپ کی دل آزری کی گئی ، گھر کا تحفظ بھی نہیں دیا۔ اب ان سے کوئی امید نہ رکھیں‘ اللہ سے لو لگائیں‘ اللہ سے باتیں کریں‘ ناامید نہ ہو‘ نماز پنجگانہ ادا کریں۔ والدین کے مشورے پر عمل کریں وہی آپ کے حق میں بہتر فیصلہ کریں گے۔

 

میں بغیر کسی وجہ لوگوں سے معافی مانگتا رہتا ہوں
گزشتہ چھ ماہ سے میرا دماغ خالی ، خالی سا رہنے لگا ہے۔ بی ایس سی کے بعد پڑھنے کو دل نہیں چاہتا، بھوک ختم ہوگئی، ہر چیز بری لگتی ہے، بار، بار ہاتھ دھوتا ہوں۔ میرا ایک دوست ہسپتال میں جاب کرتا ہے، اس سے ہاتھ ملانے کو دل نہیں چاہتا۔ اگر کبھی وہ خود ہی ہاتھ بڑھائے تو بہت بے دلی سے ملاتا ہوں۔ وہ سمجھتا ہے شاید میں ناراض ہوں یا خود کو کچھ سمجھنے لگا ہوں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ میں تو بغیر کسی وجہ کے لوگوں سے معافی مانگتا رہتا ہوں۔ کچھ لوگ تو اس بات کو اچھا سمجھتے ہیں اور بعض مذاق اڑاتے ہیں۔ (کامران۔ساہیوال)
مشورہ:بار بار ہاتھ دھونے والے لوگوں کے دماغ میں ایسے خیالات آتے ہیں جو ان کو ہاتھوں کے گندے یا ناپاک ہونے کا احساس دلاتے رہتے ہیں، اسی لیے ایک بار ہاتھ دھونا ان لوگوں کے لیے ناکافی ہوتا ہے۔ آپ کا دماغ اپنی تعلیم، بلند مقاصد، ترقی، اہم ذمہ داریوں کی انجام دہی کی طرف سے خالی ہوا ہوگا لیکن کچھ باتیں ایسی ضرور مسلط ہیں جو اپنے بارے میں ناپسندیدگی یا احساس جرم پیدا کررہی ہیں، اسی لیے معافی مانگ رہے ہیں۔ کسی کو کوئی تکلیف نہیں پہنچائی پھر بھی بار، بار کی معافی آپ کی عمر کے لڑکوں کو مذاق اڑانے پر اکسا رہی ہے۔ اپنے رویے میں توازن پیدا کریں۔ضروری ہے کہ وقت کا بہتر استعمال کیا جائے۔ اگر خود کو بے ربط، فضول اور خود بہ خود آنے والے خیالات کے حوالہ کر ڈالا نہ صرف بار، بار ہاتھ دھونے کی عادت پختہ ہو جائے گی بلکہ اس سے ملتی جلتی اور بھی ایسی عادات سامنے آسکتی ہیں۔

Ubqari Magazine Rated 3.7 / 5 based on 352 reviews.